Nahjul Balagha Urdu Unicode نہج البلاغہ اردو

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 475

قناعت ایسا سرمایہ ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔

سید رضی  کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اس کلام کو پیغمبرﷺسے روایت کیا ہے۔

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 480

جب کوئی مومن اپنے کسی بھائی کا احتشام کرے تو یہ اُس سے جدائی کا سبب ہو گا۔

سید رضیؒ کہتے ہیں کہ حشم واحشام کے معنی ہیں غضبناک کرنا اور ایک معنی ہیں شرمندہ کرنا اور احتشام کے معنی ہیں”اس سے غصہ یا خجالت کا طالب ہونا “ اور ایسا کرنے سے جدائی کا امکان غالب ہوتا ہے۔

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر479

بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زحمت اٹھانا پڑے۔

سید رضی کہتے ہیں کہ یہ اس لیےکہ مقدور سے زیادہ تکلیف، رنج و مشقت کا سبب ہوتی ہے اور جس بھائی کے لیے تکلف کیا جائے، اُس سے لازمی طور پر زحمت پہنچے گی۔ لہذا وہ بُرا بھائی ہوا۔

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 478

اللہ نے جاہلوں سے اس وقت تک سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ سکھانے میں دریغ نہ کریں۔

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 477

سب سے بھاری گناہ وہ ہے جسے مرتکب ہونے والا سُبک سمجھے۔

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 476

جب زیاد ابن ابیہ کو عبد اللہ ابن عباس کی قائم مقامی میں فارس اور اس کے ملحقہ علاقوں پر عامل مقرر کیا تو ایک باہمی گفتگو کے دوران کہ جس میں اسے پیشگی مالگزاری کے وصول کرنے سے روکنا چاہا کہا ” عسل کی روش پر چلو۔  بے راہ روی اور ظلم سے کنارہ کشہ کرو کیونکہ بے راہ روی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ انہیں گھر بار چھوڑنا پڑے گا اور ظلم انہیں تلوار اٹھانے کی دعوت دے گا“۔

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 474

وہ مجاہد جو خدا کی راہ میں شہید ہو، اُس شخص سے زیادہ اجر کا مستحق نہیں ہے جو قدرت و اختیار رکھتے ہوئے پاک دامن رہے۔ کیا بعید ہے کہ پاکدامن فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہو جائے۔

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 473

حضرتؑ سےکہا گیا کہ اگر آپ سفید بالوں کو (خضاب سے) بدل دیتے تو بہتر ہوتا۔ اس پر حضرتؑ نے فرمایا کہ خضاب زینت ہے اور ہم لوگ سوگوار ہیں۔

سید رضی کہتے ہیں کہ حضرتؑ نے اس سے وفاتِ پیغمبرﷺمراد لی ہے۔

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 472

طلب باراں کی ایک دعا میں فرمایا: بارِ الہٰا! ہمیں فرمانبردار ابروں سے سیراب کر نہ اُن ابروں سے جو سرکش اور منہ زور ہوں۔

سید رضی  کہتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب فصاحت پر مشتمل ہے ۔ اس طرح کہ امیر المومنین علیہ السلام نے کڑک، چمک، ہوا اور بجلی والے بادلوں کو اُن اونٹوں سے تشبیہ دی ہے کہ جو اپنی منہ زوری سے زمین پر پیر مار کر پالان پھینک دیتے ہوں اور اپنے سواروں کو گرا دیتے ہوں اور ان خوفناک چیزوں سے خالی ابر کو ان اونٹنیوں سے تشبیہ دی ہے جو دوہنے میں مطیع ہوں اور سواری کرنے میں سوار کی مرضی کے مطابق چلیں۔

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 471

حکمت کی بات سے خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں جس طرح جہالت کے ساتھ بات کرنے میں کوئی بھلائی نہیں۔