Nahjul Balagha Urdu Unicode نہج البلاغہ اردو

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 229

قناعت سے بڑھ کر کوئی سلطنت اور خو ش خلقی سے بڑھ کر کوئی عیش و آرام نہیں ہے۔حضرت ؑسے اس آیت کے متعلق دریافت کیاگیا کہ ”ہم اس کو پاک و پاکیزہ زندگی دیں گے “ ؟آپ ؑنے فرمایا کہ وہ قناعت ہےحسن خلق کو نعمت سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح نعمت باعث لذت ہوتی ہے اسی طرح انسان خوش اخلاقی و نرمی سے دوسروں کے دلوں کو اپنی مٹھی میں لے کر اپنے ماحول کو خوش گوار بناسکتا ہے۔اور اپنے لیے لذت و راحت کا سامان کر نے میں کامیاب ہوسکتا ہے او ر قناعت کو سرمایہ وجاگیر اس لیے قرار دیا ہے کہ جس طرح ملک و جاگیر احتیاج کو ختم کردیتی ہے اسی طرح جب انسان قناعت اختیار کرلیتا ہے اور اپنے رزق پر خوش رہتا ہے تو وہ خلق سے مستغنی اور احتیاج سے دور ہوتا ہے۔

ہر قانع شد بخشک و تر شہ بحر و برداشت