Nahjul Balagha Urdu Unicode نہج البلاغہ اردو

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 455

حضر تؑ سے پوچھا گیا کہ سب سے بڑا شاعر کون ہے؟ فرمایا کہ شعرا کی دوڑ ایک روش پر نہ تھی کہ گوئے سبقت لے جانے سے ان کی آخری حد کو پہچانا جائے ‘اور اگر ایک کو ترجیح دینا ہی ہے تو پھر ملک ضلیل (گمراہ بادشاہ) ہے۔

مطلب یہ ہے کہ شعراء میں موازنہ اسی صورت میں ہوسکتاہے ‘جب ان کے توسن فکر ایک ہی میدان سخن میں جولانیاں دکھائیں اور جب کہ ایک روش دوسرے کی روش سے جدا اور ایک کا اسلوب کلام دوسر ے اسلوب کلام سے مختلف ہے ‘تو یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ کو ن میدان ہار گیا اور کون گوئے سبقت لے گیا۔چنانچہ مختلف اعتبارات سے ایک دوسرے پر ترجیح دی جاتی ہے ‘اور اگر کوئی کسی لحاظ سے اور کوئی کسی لحاظ سے شعرا سمجھا جاتا رہاہے جیسا کہ مشہور مقولہ ہے کہ :

عرب کا سب سے بڑا شاعر امرئالقیس ہے جب وہ سوار ہوا اور اعشی جب وہ کسی چیز کا خواہشمند ہواور نابغہ جب اسے خو ف و ہراس ہو۔

لیکن اس تقیید کے باوجود امرائ القیس حسن تخییل و لطف ومحا کات اور ان چھوتی تشبیہات اور نادر استعارات کے لحاظ سے طبقہ اولیٰ کے شعرائ میں سب سے اونچی سطح پر سمجھا جاتا ہے۔اگرچہ اس کے اکثر اشعا ر عام معیار اخلاق سے گرے ہوئے اورفحش مضامین پر مشتمل ہیں ‘ مگر اس فحش نگاری کے باوجود اس کی فنی عظمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اس لیے کہ فن کار صرف فنی زاویہ نگار سے شعر کے حسن و قبیح کو دیکھتا ہے اور دوسری حیثیات کو جوفن میں دخیل نہیں ہوتیں ‘نظر انداز کردیتا ہے۔

بہرحال امر ائ القیس عرب کانامور شاعر تھا ‘اور اس کا باپ حجر کندی سلاطین کند ہ کی آخری فرد اورصاحب علم و سپاہ تھا اور بنی تغلب کے مشہور شاعر وسخن ران کلیباور مہلہل اس کے ماموں تھے اس لیے فطری رجحان کے علاوہ یہ اپنے ننھیال کی طرف سے بھی شعر وسخن کا ورثہ دار تھا اور سرزمین نجد کی آزاد فضا اور عیش و تغم کے گہوارے میں تربیت پانے کی وجہ سے شورہ پستی و سرمستی اس کے ضمیر میں رچ بس گئی تھی۔چنانچہ حسن وعشق اور نغمہء و شعر کی کیف آور فضاؤں میں پوری طرح کھو گیا۔باپ نے باز رکھنا چاہا ‘مگراس کا کوئی نصیحت کار گر نہ ہوئی۔آخر اس نے مجبو ر ہوکر اسے الگ کردیا الگ ہونے کے بعد اس کے لیے کوئی روک ٹوک نہ تھی۔پوری طرح ادا و عیش و عشرت دینے پر اترآیا۔اور جب اپنے باپ کے مارے جانے کی اسے خبر ہوئی تواس کے قصاص کے لیے کمر بستہ ہو ا او رمختلف قبیلوں کے چکر لگائے تاکہ ان سے مدد حاصل کرے اور جب کہیں سے حسب و لخواہ امداد حاصل نہ ہوئی ‘تو قیصر روم کے ہاں جاپہنچا اور اس سے مدد کا طالب ہوا۔بیان کیا جاتا ہے کہ وہاں بھی اس نے ایک ناشائستہ حرکت کی جس سے قیصر روم نے اسے ٹھکانے لگانے کے لیے ایک زہرآلودہ پیراہن دیا۔جس کے پہنتے ہی زہر کا اثر اس کے جسم میں سرایت کر گیا اور اسی زہر کے نتیجہ میں اس کی موت واقع ہوئی اور نقرہ میں دفن ہوا۔