Nahjul Balagha Urdu Unicode نہج البلاغہ اردو

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 470

حضرتؑ سے توحید و عدل کے متعلق سوال کیاگیا توآپ ؑنے فرمایا:

توحید یہ ہے کہ اسے اپنے وہم و تصور کا پابند نہ بناؤاور یہ عدل ہے کہ اس پر الزامات نہ لگاؤ۔

عقیدہ توحید اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک اس میں تنزیہ کی آمیزش نہ ہویعنی اسے جسم وصورت اور مکان و زمان کے حدود سے بالا ترسمجھتے ہوئے اپنے اوہام و ظنون کا پابند نہ بنایا جائے کیونکہ جسے اوہام و ظنون کا پابند بنایا جائے گا وہ خدا نہیں ہوگا بلکہ ذہن انسانی کی پیداوار ہوگا اور ذہنی قوتیں دیکھی بھالی ہوئی چیزوں ہی میں محدود رہتی ہیں۔لہٰذا انسان جتنا گڑھی ہوئی تمثیلوں اور قوت واہمہ کی خیال آرائیوں سے اسے سمجھنے کی کوشش کرے گا ‘اتنا ہی حقیقت سے دور ہوتا جائے گا۔چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے: جب بھی تم اسے اپنے تصور و وہم کا پابند بناؤگے وہ خدا نہیں رہے گا بلکہ تمہاری طرح کی مخلوق اور تمہاری ہی طر ف پلٹنے والی کوئی چیز ہوگی۔

اور عدل یہ ہے کہ ظلم و فبح کی جتنی صورتیں ہوسکتی ہیں ان کی ذات باری سے نفی کی جائے اور اسے ان چیزوں سے متہم نہ کیا جائے کہ جو بری اور بے فائدہ ہیں اورجنہیں عقل اس کے لیے کسی طرح تجویز نہیں کرسکتی۔چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے: ”تمہارے پروردگار کی بات سچائی اور عدل کے ساتھ پوری ہوئی کوئی چیز اس کی باتوں میں تبدیلی پیدا نہیں کرسکتی“۔