Nahjul Balagha Urdu Unicode نہج البلاغہ اردو

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 468

لوگوں پر ایک ایسا گز ند پہنچانے والا دور آئے گا جس میں مالدار اپنے مال میں بخل کرے گا حالانکہ اسے یہ حکم نہیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ ”آپس میں حسن سلوک کو فراموش نہ کرو “ اس زمانہ میں شریر لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نیکو کار ذلیل خوار سمجھے جائیں گے اور مجبور اور بے بس لوگوں سے خرید و فروخت کی جائے گی۔ حالانکہ رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے مجبور و مضطر لوگوں سے (اونے پونے) خریدنے کومنع کیا ہے۔

مجبور و مضطر لوگوں سے معاملہ عموما ًاس طرح ہوتا ہے کہ ان کی احتیاج و ضرور ت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ان سے سستے داموں چیزیں خرید لی جاتی ہیں اور مہنگے داموں ان کے ہاتھ فروخت کی جاتی ہیں۔ اس پریشان حالی میں ان کی مجبوری و بے بسی سے فائدہ اٹھانے کی کوئی مذہب اجازت نہیں دیتا اورنہ آئین اخلاق میں اس کی کوئی گنجائش ہے کہ دوسرے کی اضطراری کیفیت سے نفع اندوزی کی راہیں نکالی جائیں۔

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 33

سخاوت کرو لیکن فضول خرچی نہ کرو جز رسی (کنجوسی) کرو٬ مگر بخل نہیں۔

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر3

بخل ننگ و عار ہے‘ اور بزدلی نقص و عیب ہے‘ اور غربت مردِ زیرک و دانا کی زبان کو دلائل کی قوت دکھانے سے عاجز بنا دیتی ہے‘ اور مفلس اپنے شہر میں رہ کر بھی غریب الوطن ہوتا ہے اور عجز و درماندگی مصیبت ہے‘ اور صبر و شکیبائی شجاعت ہے اور دنیا سے بے تعلقی بڑی دولت ہے اور پرہیز گاری ایک بڑی سپر ہے۔