Nahjul Balagha Urdu Unicode نہج البلاغہ اردو

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 376

حق گراں مگر خوش گوار ہوتا ہے اور باطل ہلکامگر وبا پید اکرنے والا ہوتا ہے۔

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر31

کفر بھی چار ستونوں پر قائم ہے حد سے بڑھی ہوئی کاوش٬ جھگڑالو پن٬ کج روی اور اختلافات تو جو بے تعمق و کاوش کرتا ہے ٬ وہ حق کی طرف رجوع نہیں ہوتا اور جو جہالت کی وجہ سے آئے دن جھگڑے کرتا ہے٬ وہ حق سے ہمیشہ اندھا رہتا ہے اور جوو حق سے منہ موڑ لیتا ہے وہ اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھنے لگتا ہے اور گمراہی کے نشہ میں مدہوش پڑا رہتا ہے اور جو حق کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کے راستے بہت دشوار اور اس کے معاملات سخت پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور بچ کے نکلنے کی راہ اس کے لئے تنگ ہو جاتی ہے۔ شک کی بھی چار شاخیں ہیں۔ کٹھ حجتی٬ خوف٬ سرگرادنی اور باطل کے آگے جبیں سائی۔ چنانچہ جس نے لڑائی جھگڑے کو اپنا شیوہ بنا لیا اس کی رات کبھی صبح سے ہمکنار نہیں ہو سکتی اور جس کو سامنے کی چیزوں نے ہول میں ڈال دیا وہ الٹے پیر پلٹ جاتا ہے اور جو شک و شبہہ میں سرگرداں رہتا ہے اسے شیاطین اپنے پنجوں سے روند ڈالتے ہیں اور جس نے دنیا و آخرت کی تباہی کے آگے سرتسلیم خم کر دیا وہ دو (2)جہاں میں تباہ ہوا۔

(سید رضی فرماتے ہیں کہ ہم نے طوالت کے خوف اور اس خیال سے کہ اصل مقصد جو اس باب کا ہے فوت نہ ہو٬ بقیہ کلام کو چھوڑ دیا ہے)