Nahjul Balagha Urdu Unicode نہج البلاغہ اردو

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 155

عہد و پیمان کی ذمہ داریوں کو ان سے وابستہ کر و جو میخوں کے جیسے (مضبوط ) ہوں۔

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 151

ہر شخص کا ایک انجام ہے۔اب خواہ وہ شیریں ہو یا تلخ۔

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 93

تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ اے اللہ! میں تجھ سے فتنہ و آزمائش سے پناہ چاہتا ہوں اس لیے کہ کوئی شخص ایسا نہیں جو فتنہ کی لپیٹ میں نہ ہو بلکہ جو پناہ مانگے وہ گمراہ کرنے والے فتنوں سے پناہ مانگے کیونکہ اللہ سبحان کا ارشاد ہے اور اس بات کو جانے رہو کہ تمہارا مال اور اولاد فتنہ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ لوگوں کومال اور اولاد کے ذریعے آزماتا ہے تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ کون اپنی قسمت پر شاکرہے اگرچہ اللہ سبحانہ ان کو اتنا جانتا ہے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو اتنا نہیں جانتے ۔لیکن یہ آزمائش اس لیے ہے کہ وہ افعال سامنے آئیں جن سے ثواب و عذاب کا استحقاق پیدا ہوتا ہے کیونکہ بعض اولا د نرینہ کو چاہتے ہیں اور لڑکیوں سے کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اور بعض مال بڑھانے کو پسند کرتے ہیں اور بعض شکستہ حالی کو برا سمجھتے ہیں ۔
سید رضیؒ فرماتے ہیں کہ یہ ان عجیب و غریب باتوں میں سے ہے جو تفسیر کے سلسلہ میں آپ سے وارد ہوئی ہیں ۔

نہج البلاغہ كلمہ قصار نمبر 92

وہ علم بہت بے قدروقیمت ہے جو زبان تک رہ جائے اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے جو اعضا و جوارح سے نمودار ہو۔